جونپور/لکھنؤ (ویب ڈیسک – غلام مرتضیٰ) بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع جونپور میں ایک انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ۲۰ سالہ نوجوان سورج بھاسکر نے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر اپنا ہی پاؤں کٹوا دیا، مگر اس خطرناک عمل کے باوجود نہ تو اسے ایڈمیشن ملا اور نہ ہی وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ اپنا ایک پاؤں بچا سکا۔
پولیس تحقیقات کے مطابق سورج بھاسکر نے دو مرتبہ NEET امتحان میں ناکامی کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اس نے ڈس ایبلیٹی کوٹہ کے تحت میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے خود کو معذور ظاہر کرنے کا منصوبہ بنایا اور واقعے کو مجرمانہ حملہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔
واقعہ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سورج کے بڑے بھائی آکاش بھاسکر نے پولیس کو اطلاع دی کہ رات کے وقت نامعلوم افراد نے سورج پر حملہ کیا، اسے بے ہوش کر کے اس کا پاؤں کاٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری مقدمہ درج کیا اور تفتیش شروع کی جو بعد میں سٹی سرکل افسر گولڈی گپتا کے سپرد کی گئی۔
مزید چھان بین میں پولیس کو سورج کے موبائل فون اور ڈائری سے اہم شواہد ملے۔ ڈائری میں اس نے لکھا تھا:
“میں 2022میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنوں گا۔”
ایک خاتون سے پوچھ گچھ اور موبائل چیک کرنے کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ سورج نے خود ہی یہ منصوبہ بنایا تھا۔ اس کی کہانی میں کئی تضادات سامنے آئے اور وہ اپنے بیان پر قائم نہ رہ سکا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی) آیوش شری واستو کو بدھ کو اس کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ پولیس اب یہ دیکھ رہی ہے کہ نوجوان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی کون سی دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
لائن بازار تھانے کے ایس ایچ او ستیش سنگھ کے مطابق سورج اس وقت ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی پر غور جاری ہے۔
ماہرین کی رائے نفسیاتی ماہرین اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ NEET جیسے انتہائی دباؤ والے امتحانات نوجوانوں میں شدید ذہنی تناؤ پیدا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر بننے کی خواہش اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ کچھ نوجوان انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس واقعے کو ایک سنگین انتباہ قرار دیتے ہوئے ماہرین نے طلبہ کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دینے اور کونسلنگ کے نظام کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ یہ واقعہ محض ایک نوجوان کی ذہنی کمزوری کا نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، مقابلے کی دوڑ اور معاشرتی دباؤ کی تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ NEET جیسے امتحانات میں ناکامی کو زندگی کی ناکامی سمجھ لینا اور اسے درست کرنے کے لیے اپنا جسم کاٹنے جیسا قدم اٹھانا ایک خطرناک رجحان ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے۔
سورج بھاسکر نے نہ صرف اپنا ایک پاؤں گنوایا بلکہ اپنی گرل فرینڈ اور مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ یہ ایک طرف ذہنی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر بننا اتنا مقدس کیوں بنا دیا گیا ہے کہ نوجوان اس کے لیے جان تک دے دینے پر تیار ہو جاتے ہیں؟
حکومت اور تعلیمی اداروں کو فوری طور پر طلبہ کی ذہنی صحت کے لیے کونسلنگ سینٹرز قائم کرنے اور مقابلے کی اس دوڑ کو انسانی سطح پر لانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ایسے واقعات بڑھتے جائیں گے اور ہم مزید نوجوانوں کو اپنے ہاتھوں سے تباہ ہوتے دیکھتے رہیں گے۔
آپ کو یہ واقعہ کیسا لگا؟ کیا NEET جیسے امتحانات نوجوانوں پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!