مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں سمندری راستوں کی سلامتی پر بڑھتے ہوئے خدشات نے بڑی طاقتوں کو فوری اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تجارت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اس وقت خطرات کی زد میں ہے اور اس حوالے سے تازہ پیش رفت نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے جانے کے خدشات کے پیش نظر وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بحری افواج کو نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں بتایا کہ امریکی بحریہ کے مائن سویپرز پہلے ہی اس اہم گزرگاہ میں موجود ہیں اور بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کارروائی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ بحری راستے کو جلد از جلد محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن کی رفتار میں تین گنا اضافہ کیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم سے کم وقت میں ختم کیا جا سکے۔ امریکی صدر کے مطابق انہوں نے بحریہ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی کشتی بارودی سرنگیں بچھانے میں ملوث پائی جائے، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی ایران کی پاسدارانِ انقلاب پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ صورتحال میں امریکی حکام نے اس امر کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی کہ ایران اس وقت بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد ایران کی جانب سے اس اہم گزرگاہ کو بند کیے جانے کے باعث خطے میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
2