خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
پاکستان سمیت دنیا کے 60 ممالک کیلئے ایک اہم تجارتی چیلنج سامنے آ گیا ہے، جہاں امریکا نے جبری مشقت کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزام پر نئی درآمدی ڈیوٹیز (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو پاکستانی برآمدات کو امریکی منڈی میں اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت، صنعت اور برآمدی شعبے پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (USTR) کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ جائزہ لیا گیا کہ مختلف ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کیلئے کتنے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 54 ممالک ایسی اشیا کی درآمد پر مؤثر پابندیاں نافذ کرنے میں ناکام رہے جبکہ پاکستان سمیت 6 ممالک میں ان پابندیوں پر عملدرآمد ناکافی پایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بعض دیگر ممالک کیلئے یہ شرح 12.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی تجاویز اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ امریکی حکومت نے 6 جولائی تک متعلقہ فریقین سے تحریری آراء طلب کر لی ہیں، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اپنے بیان میں کہا کہ جبری مشقت کے مسئلے کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے امریکی کارکنوں کو غیر منصفانہ مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی تجارتی نظام میں شفافیت اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان پر اضافی ٹیرف نافذ ہو جاتا ہے تو سب سے زیادہ اثر ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر برآمدی شعبوں پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ امریکا پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں شامل ہے۔ اضافی ڈیوٹی کے باعث پاکستانی مصنوعات کی قیمت بڑھ سکتی ہے جس سے عالمی مقابلے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اگرچہ امریکی تجویز میں بعض اشیا کو استثنیٰ بھی دیا گیا ہے، جن میں بیف، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں، تاہم پاکستان کی بڑی برآمدی مصنوعات اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برآمد کنندگان اس ممکنہ فیصلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی برآمدات میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور معاشی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اگر امریکی منڈی میں نئی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں تو اس سے حکومت کے معاشی اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز صرف ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سفارتی پیغام بھی تصور کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی تجارت میں انسانی حقوق اور لیبر قوانین اب اہم عوامل بن چکے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کو ان معیارات پر پورا اترنے کیلئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ پاکستان کیلئے یہ موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر حکومت اور برآمدی شعبہ بروقت اصلاحات اور سفارتی کوششوں پر توجہ دیں تو ممکن ہے حتمی فیصلے سے قبل صورتحال میں بہتری آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارت کاری اور تجارتی اداروں کو امریکی حکام کے ساتھ فعال رابطے بڑھانے چاہئیں تاکہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
کاروباری حلقوں میں اس خبر پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ فیصل آباد کے ایک ٹیکسٹائل برآمد کنندہ نے کہا کہ “اگر اضافی ٹیرف نافذ ہو گیا تو ہماری مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ مشکل ہو جائے گا۔” جبکہ کراچی کے ایک صنعتکار نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے پر سفارتی سطح پر اقدامات کرنے چاہئیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اور پاکستان کے پاس اپنا مؤقف پیش کرنے کا وقت موجود ہے۔ تاہم اگر یہ تجویز نافذ ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف برآمدی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ روزگار، زرمبادلہ اور صنعتی پیداوار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عوامی سوال
کیا آپ کے خیال میں امریکا کی جانب سے مجوزہ نئے ٹیرف پاکستان کی برآمدات کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوں گے یا حکومت اس چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔