خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ جنگی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں، خصوصاً تیل درآمد کرنے والے ممالک پر مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ 3.10 ڈالر اضافے کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف موجودہ سپلائی اور طلب کا نتیجہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی اور عسکری خطرات کا عکس بھی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈی میں قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، فضائی سفر، مال برداری، بجلی کی پیداوار اور صنعتی لاگت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتے ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر عالمی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو حکومت پر درآمدی بل بڑھنے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے صنعتی پیداوار، زرعی شعبے، درآمدات اور برآمدات کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہر بڑی کشیدگی کا سب سے پہلا اثر عالمی تیل مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر معیشتوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ حکومت کو ممکنہ عالمی بحران کے پیش نظر پیشگی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے، تاکہ اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو عوام پر اس کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔
کاروباری حلقوں اور عوام میں بھی اس خبر کے بعد تشویش پائی جا رہی ہے۔ کراچی کے ایک درآمد کنندہ نے کہا کہ “اگر تیل مزید مہنگا ہوا تو کاروباری لاگت بڑھ جائے گی، جس سے ہر چیز مہنگی ہوگی۔” جبکہ لاہور کے ایک ٹرانسپورٹر کا کہنا تھا کہ “ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔”
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ چند ہفتے عالمی منڈی کیلئے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، لیکن اگر جنگی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی معیشت کو ایک نئے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوامی سوال
کیا آپ کے خیال میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی، یا حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہوگی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔