تہران:ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کر کے دکھائے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے بیان میں کہا کہ اگر امریکا واقعی اپنے بحری جہاز بھیجنا چاہتا ہے تو وہ انہیں تعینات کر کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزار کر دکھائے۔
ایران کی مسلح افواج کی جانب سے بھی اس حوالے سے ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بدستور کھلی ہے، تاہم اگر کوئی امریکی یا اسرائیلی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا شروع کر سکتی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق اگر صورتحال کا تقاضا ہوا تو امریکی نیوی کمرشل جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جائے گی تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہازوں کے انشورنس معاملات میں امریکی مالیاتی ادارے معاونت فراہم کریں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک خصوصاً سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کا برآمدی تیل اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔