خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ عسکری تصادم کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر United States Central Command نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کے گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی مبینہ طور پر ایرانی ڈرون سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی دعویٰ کیا ہے؟
سینٹکام کے مطابق ایرانی جانب سے مبینہ طور پر داغے گئے چار ڈرونز کو مار گرایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی جانب آنے والے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو بھی ناکام بنایا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ ایرانی جوابی کارروائی میں سات میزائل داغے گئے جن میں سے چھ کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
ایران کا مؤقف
دوسری جانب Islamic Revolutionary Guard Corps نے امریکی کارروائی کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پر وارننگ فائر بھی کیے گئے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ چار ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی جو ان کے بقول بغیر اجازت حساس بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے مزید عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے کی بندش عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
عالمی خدشات میں اضافہ
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے امکانات نے خلیجی ممالک، یورپی اتحادیوں اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ بعض حلقے خطے میں بڑے تصادم کے خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے کیونکہ کسی بھی غلط اندازے یا محدود کارروائی کے جواب میں تنازع وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ عالمی طاقتوں کیلئے بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق توانائی کی عالمی سپلائی سے ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ دونوں فریق اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں، تاہم اصل خطرہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
ان کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔