دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Syed Asim Munir نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے حصول تک دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔

Pakistan Army کے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی پروقار تقریب General Headquarters میں منعقد ہوئی، جہاں چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہدا کے اہل خانہ، افسران اور جوانوں کو غیر معمولی بہادری اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا۔

50 افسران و جوانوں کو ستارہ امتیاز ملٹری

Inter-Services Public Relations (آئی ایس پی آر) کے مطابق تقریب میں 50 افسران و جوانوں کو ستارہ امتیاز (ملٹری) جبکہ 12 کو تمغہ بسالت عطا کیا گیا۔

شہدا کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی جانب سے اعزازات وصول کیے، جبکہ تقریب میں وطن کیلئے قربانیاں دینے والے سپوتوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

“شہدا کی قربانیاں قوم کی مقدس امانت ہیں”

Syed Asim Munir نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہدا اور غازی قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں ہر پاکستانی کیلئے ایک مقدس امانت کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مادرِ وطن میں امن و سلامتی انہی عظیم قربانیوں اور فرض شناسی کی مرہونِ منت ہے۔

شہدا کے خاندانوں کو خراجِ تحسین

فیلڈ مارشل نے شہدا کے خاندانوں کی قربانیوں، حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان عظیم خاندانوں کی مقروض ہے۔

انہوں نے Pakistan Army اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل تیاریوں اور دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

Syed Asim Munir نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور ملک میں دیرپا امن قائم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم قوم اور سیکیورٹی ادارے متحد ہو کر ان عزائم کو ناکام بنائیں گے۔

عوامی اور تجزیاتی ردعمل

تقریب اور آرمی چیف کے بیانات پر عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا، جہاں شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی اور سیکیورٹی آپریشنز میں تسلسل برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال اور اندرونی سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سیکیورٹی اداروں کا متحرک کردار ملکی استحکام کیلئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔