لاہور:لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے پاکستان کے ٹیکس نظام اور معاشی ڈھانچے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں ٹیکس ادائیگی کا کلچر انتہائی کمزور ہے اور یہاں ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر ٹیکس چوری میں ملوث ہے، جبکہ تاجروں سے ٹیکس وصول کرنا عملاً ناممکن ہو چکا ہے۔
شبر زیدی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر اسلام آباد کے نظام سے جان چھڑوا لی جائے تو بیشتر مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکمران کسی بھی مارکیٹ میں جا کر ٹیکس وصول کرنے کی جرات کرکے دکھائے، اگر ایسا ہوا تو وہ خودکشی پر مجبور ہو جائیں گے۔
انہوں نے موجودہ مالیاتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں 25 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اوسط ٹیکس شرح تقریباً 26 فیصد ہے، تاہم پاکستان میں مجموعی ٹیکس بوجھ 51 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود ملک کا موازنہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے کیا جاتا ہے۔
سابق چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملک میں تقریباً 11 کھرب روپے سرکولیشن میں موجود ہیں، جبکہ بعض بینک اور مالیاتی ادارے بھی ٹیکس چوری کے عمل میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ریاست ٹیکس اکٹھا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور بنیادی مسئلہ انتظامی نااہلی ہے۔
انہوں نے مختلف ادوار کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف، بانی پی ٹی آئی، شہباز شریف اور شوکت عزیز سمیت کوئی بھی حکمران مؤثر طور پر ریاستی نظام نہیں چلا سکا۔
شبر زیدی نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ بجٹ میں 14 ہزار ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں 2 ہزار ارب روپے اضافی ریونیو بڑھانے کا ہدف بھی زیر بحث آیا تھا، تاہم اسے قبول نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف تقریباً 300 کمپنیاں باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہیں، جبکہ وہ خود 95 فیصد کمپنیوں کے لیے بطور ایڈوائزر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی معاشی ڈکشنری سے “ریفارمز” اور “پالیسی” جیسے الفاظ عملی طور پر ختم ہو چکے ہیں۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی یا ممکنہ جنگ کے خاتمے سے پاکستان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ ملک اپنی معاشی حکمت عملی اور مارکیٹنگ بہتر بنائے۔