رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Mumbai میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے کو سوگ اور خوف میں مبتلا کر دیا، جہاں بریانی اور بعد ازاں تربوز کھانے کے چند گھنٹوں بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو فوڈ پوائزننگ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم فرانزک تحقیقات میں سامنے آنے والے انکشافات نے سب کو حیران کر دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ 45 سالہ عبداللہ عبدالقادر، ان کی اہلیہ نسرین، 16 سالہ بیٹی عائشہ اور 13 سالہ زینب نے ہفتے کی شب اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کھایا، جس میں بریانی شامل تھی۔ بعد ازاں رات گئے خاندان نے تربوز بھی کھایا۔
رپورٹس کے مطابق تربوز کھانے کے چند گھنٹے بعد تمام افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ گھر والوں کے مطابق پہلے متلی اور بے چینی محسوس ہوئی، پھر شدید قے اور کمزوری نے سب کو نڈھال کر دیا۔ صورتحال خراب ہونے پر اہلِ خانہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر افسوسناک طور پر چاروں افراد دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
واقعے کے فوراً بعد شبہ ظاہر کیا گیا کہ شاید خاندان فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوا ہے، تاہم بعد میں ہونے والی فرانزک تحقیقات نے کیس کا رخ ہی بدل دیا۔ فرانزک رپورٹ کے مطابق لاشوں اور تربوز کے نمونوں میں “زنک فاسفائٹ” نامی خطرناک زہریلا کیمیکل پایا گیا، جو عام طور پر چوہے مار زہر میں استعمال ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کے دوران متاثرہ افراد کے اندرونی اعضا میں سبز رنگت بھی دیکھی، جسے ماہرین زہر خورانی کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔ تفتیشی حکام اب اس پہلو پر تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ زہریلا مادہ غلطی سے خوراک میں شامل ہوا یا کسی نے جان بوجھ کر تربوز میں زہر ملایا۔
پولیس اور فرانزک حکام کی تحقیقات جاری
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ فرانزک ٹیمیں کھانے کے دیگر نمونوں، باورچی خانے کے سامان اور خاندان کے قریبی افراد کے بیانات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ زہر خوراک تک کیسے پہنچا۔
تحقیقات سے وابستہ افسران کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ زہر جان بوجھ کر شامل کیا گیا تھا تو یہ ایک سنگین مجرمانہ کارروائی ہوگی۔ پولیس نے کئی افراد سے پوچھ گچھ بھی شروع کر دی ہے جبکہ علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی چیک کی جا رہی ہے۔
عوام میں خوف و ہراس
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء میں زہریلے مادے کی موجودگی انتہائی تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اس افسوسناک واقعے پر دکھ اور غم کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ متعدد افراد نے خوراک کی حفاظت اور معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق زنک فاسفائٹ انتہائی خطرناک زہریلا مادہ ہے، جو جسم میں داخل ہوتے ہی معدے اور سانس کے نظام کو شدید متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو کھانے کے فوراً بعد شدید قے، چکر یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر خوراک کی حفاظت، گھریلو احتیاط اور زہریلے کیمیکلز کی نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔