امریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد، ایران تنازع میں اسلام آباد کو قابلِ اعتماد ثالث قرار دے دیا

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

واشنگٹن / اسلام آباد:ایران تنازع میں پاکستان کی متحرک سفارت کاری کو عالمی سطح پر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں امریکی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کے حق میں ایک اہم قرارداد پیش کر دی گئی۔ قرارداد میں پاکستان کو ایران جنگ کے دوران ایک “غیر جانبدار، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث” قرار دیتے ہوئے اس کی امن کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے۔

یہ قرارداد امریکی کانگریس کے رکن Al Green کی جانب سے ایوانِ نمائندگان میں پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے نہایت مشکل حالات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطے بحال رکھنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان نے نہ صرف ایران تنازع کے دوران مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ مذاکراتی عمل کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے۔ امریکی قانون سازوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان نے امن کے وسیع تر مقصد کے لیے اپنے کئی شہروں میں غیر معمولی سیکیورٹی اور بندشوں جیسے اقدامات برداشت کیے تاکہ سفارتی مشنز اور امن مذاکرات کامیاب بنائے جا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق قرارداد میں ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیے کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا۔ متن میں کہا گیا کہ اس تنازع کے باعث ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تقریباً 32 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جس سے خطے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد میں اس جنگ کے معاشی اثرات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ قرارداد کے مطابق روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر اس تنازع پر خرچ ہو رہے ہیں جبکہ عالمی توانائی سپلائی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی فیول مارکیٹ پر بھی اس جنگ کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں اس نوعیت کی قرارداد پیش ہونا سفارتی سطح پر ایک بڑی پیش رفت ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نے حالیہ عرصے میں خود کو خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے، جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ قرارداد مزید حمایت حاصل کرتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص بھی مضبوط ہوگا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد خطے میں استحکام اور امن کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عوامی ردِعمل

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس پیش رفت کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف صارفین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک نے امن کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں کیں۔

شہریوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ کئی حلقوں نے حکومت اور سفارتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور مفاہمت پر یقین رکھتا ہے۔

قرارداد میں آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران تنازع کا خاتمہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ پاکستان نے اس مقصد کے لیے انتہائی اہم، مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔