واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر صورتحال غیر متوقع رخ اختیار کرتی ہے تو ایران پر پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور بڑے حملے کیے جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے تک امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار ایران کے اطراف موجود رہیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو امریکا کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا، بلکہ اس بار حملے پہلے سے زیادہ طاقتور اور مؤثر ہوں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور آئندہ کارروائیوں میں کامیابی کے لیے پُرعزم ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات جاری امن کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔