خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، جہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے حالیہ بیان نے پارٹی قیادت اور کارکنوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بغیر آگاہ کیے ملاقات کی، جس کے بارے میں نہ صرف خاندان کو علم تھا بلکہ ملاقات میں خاندان کا کوئی فرد بھی موجود نہیں تھا۔
علیمہ خان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی پہلے ہی اندرونی دباؤ، سیاسی مشکلات اور قیادت کے مختلف بیانیوں کا سامنا کر رہی ہے، اس قسم کے بیانات پارٹی کے اندر اعتماد کے بحران کو مزید نمایاں کر سکتے ہیں۔
علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اگر بانی پی ٹی آئی کے نام پر فیصلے کیے جا رہے ہیں تو پھر پارٹی قیادت کو شفافیت دکھانا ہوگی۔ ان کے اس مؤقف کو سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے بھی مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں کچھ افراد ان کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بعض حلقے اسے پارٹی معاملات کو عوامی سطح پر لانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس معاملے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات 14 مئی کو ہوئی تھی جس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور سیاسی ماحول سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق اس ملاقات کو کسی خفیہ ایجنڈے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی قیادت مختلف سطحوں پر رابطے اور مذاکرات کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں کو بعض حلقے سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ افراد اسے پارٹی کے بیانیے سے انحراف سمجھ رہے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے سب سے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں، بیانیوں اور ترجیحات کا فرق اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی سیاسی جماعت میں قیادت اور فیصلوں کے درمیان رابطے کمزور پڑ جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست پارٹی کی ساکھ اور کارکنوں کے اعتماد پر پڑتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ محسن نقوی جیسے اہم حکومتی عہدیدار سے ملاقات بذاتِ خود ایک بڑی سیاسی خبر ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی عروج پر رہی ہو۔ ان کے مطابق اگر یہ ملاقات واقعی صرف امن و امان کے معاملات کیلئے تھی تو پارٹی قیادت کو پہلے دن سے اس حوالے سے واضح مؤقف دینا چاہیے تھا تاکہ افواہوں کو جنم نہ ملتا۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی میں ایک طبقہ مذاکرات اور مفاہمت کی سیاست کا حامی ہے جبکہ دوسرا طبقہ سخت بیانیے پر قائم رہنا چاہتا ہے۔ یہی اختلافات وقتاً فوقتاً بیانات اور ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کئی کارکنوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملاقات معمول کا حصہ تھی تو پھر اسے پہلے کیوں ظاہر نہیں کیا گیا؟ جبکہ بعض صارفین نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں رابطے اور ملاقاتیں معمول کی بات ہوتی ہیں، انہیں تنازع کا رنگ دینا درست نہیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک پی ٹی آئی کارکن نے کہا کہ “پارٹی قیادت کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے، کیونکہ کارکن پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔” جبکہ اسلام آباد کے ایک سیاسی مبصر نے کہا کہ “پی ٹی آئی کے اندر بیانیے کا تضاد اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔”
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پی ٹی آئی مستقبل میں مفاہمت کی سیاست کی طرف بڑھے گی یا پھر سخت مزاحمتی بیانیہ برقرار رکھے گی۔ آنے والے دنوں میں پارٹی قیادت کے بیانات اور سیاسی ملاقاتیں اس حوالے سے مزید تصویر واضح کر سکتی ہیں۔
عوامی سوال
کیا آپ کے خیال میں سیاسی جماعتوں کی خفیہ ملاقاتیں کارکنوں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں