زیارت میں پولیس پر بڑا دہشت گرد حملہ، 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید

لاہور:بلوچستان کے پُرفضا مگر حساس علاقے زیارت سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں دہشت گردوں کے حملے نے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ مقامی آبادی میں بھی شدید خوف و تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس اہلکاروں نے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں کئی گھنٹوں تک مزاحمت کی، تاہم حملے کے نتیجے میں 9 افسران و اہلکار شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں مسلح دہشت گردوں نے پولیس پارٹی کو نشانہ بنایا۔ ایس پی زیارت قدوس دہوار نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان گزشتہ رات سے فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو متحرک کر دیا گیا۔

حملے میں شہید ہونے والوں میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین اور ایس ایچ او کواس صحبت خان بھی شامل ہیں۔ شہداء کی میتیں ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دی گئی ہیں۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق ضلع زیارت میں فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی، بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل آپریشن ونگ اور اے ٹی ایف نے مل کر علاقے کو کلیئر کیا۔

شاہد رند نے بتایا کہ شہداء میں ایس ایچ او تھانہ مانگی، ایس ایچ او تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ اور دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 اہلکار مشکل پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کاچ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی محفوظ طریقے سے بازیاب کرا لیا گیا۔

بلوچستان حکومت نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ شاہد رند کا کہنا تھا کہ شہداء نے عوام کے امن اور ریاستی رٹ کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی زیارت حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حملے کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے شہید ہونے والے 9 پولیس اہلکاروں کو سلام پیش کیا۔

محسن نقوی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق امن کے لیے جانیں نچھاور کرنے والے اہلکار قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں، دہشت گردی کے ایسے واقعات ملک کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

ادھر زیارت میں پولیس اہلکاروں سمیت دیگر افراد کے اغوا کے معاملے پر ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس میں شہریوں نے احتجاج کیا اور قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ شاہراہ کی بندش کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کچھ علاقے میں مانگی ڈیم کی زیر تعمیر ٹینکی سے پولیس اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد کو نامعلوم مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق مغوی پولیس اہلکار زیر تعمیر منصوبے پر ڈیوٹی دے رہے تھے۔

احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اغوا کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ پانچ مغوی افراد اغوا کاروں کے قبضے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں، تاہم باقی افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔