پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ ملکی معیشت کا بڑا مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے، جس نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایکسپورٹرز اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار افراد نے قومی خزانے میں 633 ارب روپے کا ریکارڈ انکم ٹیکس جمع کروایا۔ یہ رقم بااثر برآمد کنندگان اور پراپرٹی ڈیلرز کی جانب سے ادا کیے گئے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں تنخواہ دار طبقے سے وصول ہونے والا ٹیکس گزشتہ سال کے 585 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گیا۔ یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ تنخواہ دار افراد پر ٹیکس کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسی مدت کے دوران برآمد کنندگان سے 174 ارب روپے جبکہ رئیل اسٹیٹ فروخت کنندگان سے 191 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ پراپرٹی کی خریداری پر دفعہ 236-کے کے تحت 87 ارب روپے جمع ہوئے، جو گزشتہ مالی سال کے 120 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہیں۔
ریٹیل شعبے سے بھی ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 70 ارب روپے قومی خزانے کو موصول ہوئے۔ ایف بی آر کا مجموعی ٹیکس ہدف 13010 ارب روپے تھا، جبکہ حکام نے آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا نیا ہدف 15264 ارب روپے مقرر کیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیا گیا ٹیکس ان شعبوں سے بھی زیادہ ہے جنہیں ملکی معیشت کے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اس طبقے کے مسائل کے حل کے لیے اٹھائی جانے والی آواز مؤثر انداز میں سنائی نہیں دیتی۔
نئی حکمت عملی کے تحت حکومت نے ٹیکس افسران اور شہریوں کے درمیان براہِ راست رابطہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو ریلیف دینے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ انکم ٹیکس کا بڑا حصہ ان افراد سے وصول کیا جا رہا ہے جن کی آمدن سے ٹیکس براہِ راست تنخواہ کی کٹوتی کے ذریعے جمع کر لیا جاتا ہے۔ یہی طبقہ معاشی دباؤ، مہنگائی اور محدود آمدن کے باعث معاشرے کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ سمجھا جاتا ہے۔