خصوصی رپورٹ: (سینئر صحافی غلام مرتضیٰ )مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی بھی دنیا بھر میں نئی قانونی اور اخلاقی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پریتی زنٹا بھی اب اس خطرناک رجحان کا شکار ہو گئی ہیں اور اپنی شناخت کے مبینہ غیر قانونی استعمال کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
اداکارہ نے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان کی جعلی ویڈیوز، تبدیل شدہ تصاویر اور چیٹ بوٹ طرز کا ڈیجیٹل مواد ان کی اجازت کے بغیر تیار اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر پھیلایا جا رہا ہے، جس سے ان کی ساکھ اور ذاتی شناخت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
عدالت سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
پریتی زنٹا نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کے نام، تصویر اور شناخت استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا تمام متنازع مواد فوری طور پر حذف کیا جائے۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مستقبل میں ان کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسا کوئی مواد شائع یا نشر کرنے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ان کی شخصیت کے مزید غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
عدالت کا ابتدائی حکم
یہ درخواست جسٹس مادھو جمدار کی سربراہی میں بمبئی ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے پیش ہوئی، جہاں ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے متعلقہ فریقین اور آن لائن پلیٹ فارمز کو ہدایت کی کہ متنازع مواد ہٹانے کے لیے مشترکہ طریقہ کار مرتب کیا جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔
ڈیپ فیک کیا ہے؟
ڈیپ فیک مصنوعی ذہانت (AI) کی ایسی جدید ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کسی شخص کی شکل، آواز یا انداز کو اس قدر حقیقت سے قریب بنا دیا جاتا ہے کہ عام صارف کے لیے اصلی اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخصیت کو ایسی باتیں کہتے یا ایسے کام کرتے ہوئے دکھایا جا سکتا ہے جو حقیقت میں کبھی پیش ہی نہیں آئے۔
بڑھتا ہوا عالمی چیلنج
حالیہ برسوں میں دنیا بھر کی متعدد معروف شخصیات، سیاست دان، اداکار اور کھلاڑی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا نشانہ بن چکے ہیں، جس کے بعد مختلف ممالک میں اس کے خلاف سخت قوانین بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانونی اور تکنیکی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ماہرین کی رائے
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک نہ صرف کسی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ جھوٹی معلومات، بلیک میلنگ اور آن لائن فراڈ جیسے جرائم کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔
ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ایسے مواد کی بروقت نشاندہی اور حذف کرنے کے لیے مزید مؤثر نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر پریتی زنٹا کے قانونی اقدام کو بڑی تعداد میں صارفین نے سراہا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے خلاف معروف شخصیات کا عدالت سے رجوع کرنا مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق مصنوعی ذہانت جہاں دنیا بھر میں ترقی اور آسانیوں کا ذریعہ بن رہی ہے، وہیں اس کا غلط استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پریتی زنٹا کا عدالت سے رجوع کرنا صرف ایک اداکارہ کا ذاتی مقدمہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل حقوق، پرائیویسی اور شناخت کے تحفظ سے جڑا ایک اہم قانونی معاملہ ہے، جس کے اثرات مستقبل میں اے آئی قوانین اور سوشل میڈیا پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ کے خیال میں ڈیپ فیک ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف سخت قانون ہونا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔