ورک پلیس پر خواتین کے بعد مردوں کو بھی ہراساں کئے جانے لگا، سینکڑوں کیسز درج

پاکستان میں کام کی جگہ پر ہراسانی کے واقعات کے حوالے سے ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں خواتین کے ساتھ ساتھ مرد بھی وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت سے رجوع کرنے لگے ہیں۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق ایک سال کے دوران 521 مردوں نے ہراسانی کے خلاف شکایات درج کروائیں، جو مجموعی شکایات کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کو ایک سال میں مجموعی طور پر 1290 مرد و خواتین کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1104 شکایات کو نمٹا دیا گیا۔

مردوں کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات میں سب سے زیادہ درخواستیں فوسپا کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں جمع کروائی گئیں، جبکہ پنجاب اس حوالے سے دوسرے نمبر پر رہا۔ اسی طرح پشاور میں 42، کراچی میں 24 اور بلوچستان میں 2 مردوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا۔

دوسری جانب خواتین کی جانب سے بھی ہراسانی کے خلاف شکایات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک سال کے دوران 769 خواتین نے فوسپا میں شکایات درج کروائیں۔ خواتین کی شکایات میں بھی اسلام آباد پہلے نمبر پر رہا، جہاں 496 خواتین نے ہراسانی کے خلاف درخواستیں دیں، جبکہ پنجاب میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے 154 کیسز سامنے آئے۔

دستاویزات کے مطابق خواتین اور مردوں دونوں کی شکایات کے حوالے سے فوسپا کا ہیڈ آفس اسلام آباد سرفہرست رہا، جبکہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ کام کی جگہ پر ہراسانی کا معاملہ اب صرف خواتین تک محدود نہیں رہا بلکہ مرد بھی اس مسئلے کے خلاف قانونی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔