سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی، عالمی ثالثی عدالت نے بھارتی مؤقف مسترد کردیا

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Pakistan کو Indus Waters Treaty کے معاملے پر بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوگئی، جہاں عالمی ثالثی عدالت نے پاکستانی مؤقف کو انصاف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے بھارت کے کئی مؤقف مسترد کر دیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ Indus Waters Treaty عالمی بینک کی ضمانت کے تحت قائم ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے India یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر قرار نہیں دے سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف معاہدے کی درست قانونی تشریح اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔

بھارت پر اہم ذمہ داریاں عائد

عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے بھارت کو ہدایت دی کہ وہ آبی وسائل سے متعلق آپریشنل ڈیٹا پاکستان کو فراہم کرے اور Kishanganga اور Ratle Dam منصوبوں سے متعلق تمام تکنیکی اور ہائیڈرولوجیکل معلومات بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل یا غیر مؤثر قرار دینے کا بیانیہ “غیر اخلاقی اور غیر قانونی” ہے۔

پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کی کوشش مسترد

عدالت نے ماحولیاتی بہاؤ سے متعلق بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت پر اضافی ذمہ داریاں عائد کر دیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور بھارت کی اس حوالے سے کوششوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

بھارتی بائیکاٹ کے باوجود کارروائی جاری رہی

قانونی ماہرین کے مطابق India اپنی کمزور قانونی پوزیشن کے باعث عالمی عدالتی کارروائی سے گریز کرتا رہا، تاہم بھارتی بائیکاٹ کے باوجود عدالت نے سماعت جاری رکھتے ہوئے اہم قانونی نکات پر فیصلہ سنا دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے لیے قانونی فتح ہے بلکہ عالمی سطح پر بین الاقوامی معاہدوں کی اہمیت اور غیرجانبدار انصاف کی بھی توثیق کرتا ہے۔

پاکستان کا خیر مقدم

Pakistan نے عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، انصاف اور سفارتی اصولوں کی فتح قرار دیا ہے۔

سیاسی اور سفارتی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں آبی تنازعات کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا اور Indus Waters Treaty کی قانونی حیثیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی معاہدوں کو سیاسی تنازعات کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی اور قانونی کوششوں نے عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو مضبوط کیا جبکہ بھارت کو اہم قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔