پاور ڈویژن کی اہم وضاحت سامنے آگئی،لوڈ شیڈنگ کی وجوہات بھی بتادیں،صارفین سے اہم اپیل

اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کے معاملے پر پاور ڈویژن کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کر دیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے بجلی کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات کے دوران پن بجلی کی پیداوار میں 1991 میگاواٹ کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پن بجلی کی کم پیداوار کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اعلانیہ شیڈول سے کچھ زیادہ لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی، جبکہ گزشتہ رات پیک اوقات میں تقریباً 4500 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا۔

بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ پن بجلی میں کمی کی بنیادی وجہ ڈیموں سے صوبوں کو پانی کے کم اخراج کی طلب ہے۔

ترجمان کے مطابق اس وقت صوبوں کو ڈیموں سے پانی ارسا کی طلب کے مطابق فراہم کیا جا رہا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے باعث بھی پانی کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ رات پیک اوقات میں مجموعی بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ رہی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کا امکان ہے، جس سے بجلی کی پیداوار میں بھی بہتری آئے گی۔

ترجمان نے واضح کیا کہ لوڈ مینجمنٹ کا شیڈول صرف رات کے اوقات کے لیے مرتب کیا گیا ہے، جبکہ دن کے وقت کسی قسم کا شارٹ فال نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آر ایل این جی کی دستیابی سے بھی بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔

ترجمان نے پن بجلی کی کم دستیابی کے باعث اضافی لوڈ مینجمنٹ پر معذرت کرتے ہوئے صارفین سے اپیل کی کہ وہ رات کے اوقات میں بجلی کا استعمال کم سے کم رکھیں اور توانائی بچت کے اصولوں پر عمل کریں۔