عید ختم، راتوں کی رونقیں بھی محدود؛ مارکیٹیں 8 بجے بند کرنے کا حکم

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ختم ہوتے ہی وفاقی دارالحکومت میں کفایت شعاری اور توانائی بچت مہم ایک بار پھر شروع کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور مختلف تجارتی مراکز کے کاروباری اوقات محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جون 2026 سے Islamabad میں تمام مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند ہوں گے جبکہ یہ احکامات اگلے نوٹس تک نافذ العمل رہیں گے۔

کن اداروں کو استثنیٰ حاصل ہوگا؟

ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی سہولت اور ضروری خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی شعبوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فارمیسیز، اسپتال، میڈیکل لیبارٹریز، میڈیکل اسٹورز، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، دودھ اور ڈیری شاپس معمول کے مطابق کھلے رہ سکیں گے۔

اسی طرح جمز، پیڈل کورٹس، کھیلوں کی دیگر سہولیات، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز بھی معمول کے اوقات میں کام جاری رکھ سکیں گے۔

ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کیلئے کیا حکم ہے؟

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس اور تندور رات 10 بجے بند کیے جائیں گے۔

کریانہ، سبزی، پھل اور بیکری کی دکانوں کیلئے بھی رات 10 بجے بندش کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

شادی ہالز، مارکیز اور نجی مقامات پر منعقد ہونے والی تقریبات کیلئے بھی رات 10 بجے تک سرگرمیاں محدود رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکومت کا مقصد کیا ہے؟

انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام توانائی بچت اور کفایت شعاری پالیسی کا حصہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کے وسائل پر دباؤ کم کرنے، بجلی کے استعمال کو محدود کرنے اور مجموعی قومی اخراجات میں کمی کیلئے کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار میں تبدیلی ضروری سمجھی گئی ہے۔

عوامی ردعمل

اسلام آباد کے تاجروں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں خریدار زیادہ تر شام اور رات کے اوقات میں مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں، اس لیے کاروباری اوقات کم ہونے سے فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب کچھ شہریوں نے توانائی بچت کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں غیر ضروری بجلی کے استعمال کو کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

ماہرین کی رائے

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کمرشل سیکٹر بجلی کے بڑے صارفین میں شمار ہوتا ہے، اس لیے کاروباری اوقات محدود کرنے سے بجلی کی مجموعی طلب میں کمی آسکتی ہے۔

معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات وقتی طور پر توانائی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم طویل المدتی حل کیلئے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور متبادل توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت کا یہ اقدام دراصل توانائی بحران اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ان کے مطابق اگرچہ توانائی بچت ضروری ہے، لیکن کاروباری طبقے کے تحفظات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب تاجر پہلے ہی مہنگائی اور کمزور خریداری قوت کی شکایات کر رہے ہیں۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی اسی صورت ممکن ہوگی جب توانائی بچت کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام میں اصلاحات اور متبادل ذرائع توانائی کو بھی فروغ دیا جائے۔