واشنگٹن: امریکا میں کیے گئے ایک نئے عوامی سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے حکومتی فیصلے کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں۔ سروے میں شریک 57 فیصد افراد نے اس اقدام کو غلط قرار دیتے ہوئے اس سے اختلاف کیا۔
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 27 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کی تائید کی اور اسے مناسب اقدام قرار دیا، جبکہ دیگر شرکا نے یا تو اس فیصلے کی مخالفت کی یا اس بارے میں کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کیا۔
نتائج سے یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ امریکی شہریوں کی بڑی تعداد اس تنازع کے جلد ختم ہونے کے بارے میں پُرامید نہیں۔ سروے میں شامل 46 فیصد افراد کا خیال تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سروے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ طویل جنگ کے امکانات اور اس سے جڑے معاشی و سیاسی نتائج امریکی عوام کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہتی ہے اور جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈی، خام تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ عوامی رائے پر مبنی ایسے سروے مستقبل میں امریکی حکومت کی خارجہ حکمت عملی، جنگ سے متعلق پالیسیوں اور عوامی حمایت کی سطح پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔