اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان آمد کے موقع پر ایک جذباتی منظر سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوران پرواز ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے دنیا کی توجہ مناب سانحے کی جانب مبذول کرا دی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ پوسٹ میں باقر قالیباف نے طیارے کے اندر لی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “سفر کے دوران یہ میرے ساتھی ہیں۔” تصویر میں جہاز کی نشستوں پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر رکھی گئی تھیں، جنہیں پھولوں سے سجایا گیا تھا، جبکہ بچوں کے بستے اور جوتے بھی نمایاں تھے۔
یہ خصوصی پرواز “مناب ۱۶۸” کے نام سے اسلام آباد پہنچی، جس میں ایرانی وفد اپنے ہمراہ ان معصوم بچوں کی یادیں لے کر آیا جو ۲۸ فروری کو جنگ کے ابتدائی روز مناب کے ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں کم از کم ۱۶۸ افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔
ایرانی وفد کی جانب سے شہید بچوں کی تصاویر اور ذاتی اشیاء ساتھ لانے کا مقصد نہ صرف انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے بلکہ عالمی برادری کو اس سانحے کی سنگینی کا احساس دلانا بھی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں وہ امریکا کے ساتھ اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے لیے ایک مضبوط ٹیم اسلام آباد بھیجی گئی ہے جس میں جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے، اور “مناب ۱۶۸” پرواز اس کشیدہ صورتحال میں انسانی المیے کی ایک دردناک علامت بن کر سامنے آئی ہے۔
باقر قالیباف کی جانب سے شہید بچوں کی تصاویر اور خون آلود بستوں کو طیارے میں ساتھ لانا ایک طاقتور سفارتی اور انسانی پیغام ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان معصوم بچوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کو اس سانحے کی سنگینی کا احساس دلاتا ہے۔
۴۵ روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ایک اہم موقع ہیں۔ پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کی کوششیں قابل تحسین ہیں، مگر کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی سیاسی مرضی پر ہوگا۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں انسانی المیے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
آپ کو باقر قالیباف کا یہ اقدام اور شہید بچوں کی یادیں ساتھ لانا کیسا لگا؟ کیا یہ مذاکرات میں مثبت اثر ڈال سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!