اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح امریکی وفد ایران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
امریکی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کیا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے امریکی نائب صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے اور دنیا میں دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لیے امریکا کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فریقین کی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کا اسلام آباد پہنچنا ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کی طرف ایک اہم سفارتی قدم ہے۔ پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کی کوششیں دونوں فریقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
اسحاق ڈار کا خیرمقدم اور امن و استحکام کے لیے امریکا کے عزم کی تعریف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا ذریعہ بننے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تصادم سے بچا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو ایک ذمہ دار اور فعال کھلاڑی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
آپ کو امریکی وفد کے اسلام آباد پہنچنے پر کیا تاثر ہے؟ کیا یہ مذاکرات جنگ بندی کا مستقل حل نکال سکیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!