اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا مذاکراتی وفد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ ایرانی وفد کا پرتپاک استقبال فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے کیا۔
ایرانی وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا جہاں وہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کریں گے۔
قبل ازیں ایرانی میڈیا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وفد میں ایران کے وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے متعدد ارکان شامل ہیں۔
ایرانی وفد میں شامل جن شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور ڈیفنس کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی باقر قالیباف نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ جنگ بندی سے قبل دو شرائط پورا ہونی تھیں جو تاحال نہیں ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ جن دو شرائط پر اتفاق ہوا تھا ان میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں فوری جنگ بندی شامل ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان دو شرائط پر جنگ بندی سے قبل عملدرآمد ہونا تھا لیکن تاحال ایسا نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب کچھ دیر قبل فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے دو سرکاری طیارے ایران سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب گامزن ہیں۔
ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچنا ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں فعال کردار ادا کیا ہے اور دونوں فریق اسے قبول بھی کر رہے ہیں۔
۴۵ روزہ جنگ بندی کے بعد ہونے والے حتمی مذاکرات اگر کامیاب ہوئے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ باقر قالیباف کا بیان یہ بتاتا ہے کہ ایران اب بھی اپنی شرائط پر قائم ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی کوئی لچک نظر آ رہی ہے۔
پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کی کوششیں قابل تحسین ہیں، مگر کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی سیاسی مرضی پر ہوگا۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
آپ کو ایران کے اعلیٰ سطح وفد کے اسلام آباد پہنچنے پر کیا تاثر ہے؟ کیا یہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!