اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج اسلام آباد میں ہوگا۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام آج وفاقی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آج بات چیت کے پہلے دور میں دونوں ممالک کے وفود شرکت کریں گے اور کل صبح ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا طے کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات ایک محفوظ اور خفیہ مقام پر میڈیا کی رسائی سے دور منعقد ہوں گے۔ امریکی اور ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان بھی مسترد نہیں کیا گیا ہے۔
مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شریک ہوں گے۔ ان مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ ایران کا وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی کے خدوخال اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور موجودہ بحران میں پاکستان نے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ شدید کشیدگی اور جھڑپیں تقریباً ۲۰ دن سے جاری ہیں۔
دونوں ممالک نے جنگ بندی کے لیے مطالبات رکھے تھے جسے پاکستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ڈرافٹ کی شکل میں تیار کر کے امریکہ اور ایران کے حوالے کیا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فریقین کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی جس کا امریکہ اور ایران نے خیر مقدم کیا اور پوری دنیا میں پاکستان کو بڑی پذیرائی ملی۔
امریکہ کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ۱۵ نکاتی تجویز کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں اہم خدشات پر بھی بات ہوگی جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، خطے میں مسلح جدوجہد کی حمایت بند، بیلسٹک میزائلوں کی اپ گریڈیشن پر پابندیاں، سمندری راستوں کی سلامتی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وسیع تر علاقائی استحکام شامل ہیں۔
ایران کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ۱۰ نکاتی فریم ورک پیش کر رہا ہے جس میں مستقبل کی فوجی کارروائی کے خلاف مضبوط ضمانتوں کا حصول، خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور مداخلت میں کمی، آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئے انتظامات، اور ایک جامع علاقائی کشیدگی میں کمی کا طریقہ کار، امریکی پابندیوں کا خاتمہ، تیل کی برآمدات میں آسانی شامل ہے۔
پاکستان نے مذاکرات کے لیے میزبانی اور ثالثی فراہم کی ہے جس پر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن ساز اور مثبت ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب تھی تاہم پاکستان نے سفارتی سطح پر مداخلت کی اور تہران کو صبر و تحمل سے کام لینے اور جوابی کارروائی سے گریز کرنے کے لیے قائل کیا جو اس تنازع کو دوبارہ بھڑکا سکتی تھی۔ ان بیک ڈور رابطوں نے عالمی بحران میں پاکستان کی حیثیت کو ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر شہرت کی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا کردار شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں بلکہ دو ایسے مخالفین کے درمیان بامعنی مکالمے کی سہولت کاری ہے جو دہائیوں سے دشمنی میں جکڑے ہوئے ہیں۔
پاکستان کا یہ کردار ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ ایران اور امریکہ جیسے دو بڑے مخالفین کے درمیان ثالثی کرنا اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔
۴۵ روزہ جنگ بندی کے بعد ہونے والے حتمی مذاکرات اگر کامیاب ہوئے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر جو ڈرافٹ تیار کیا، وہ دونوں فریقوں کے مطالبات کو متوازن کرنے کی کوشش ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کو برقرار رکھتے ہوئے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
آپ کو پاکستان کی اس سفارتی کوشش پر کیا تاثر ہے؟ کیا یہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!