ایران اور امریکا ممکنہ معاہدے کے قریب، جنگ بندی پر اہم پیش رفت سامنے آگئی

خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کار ممکنہ معاہدے کے وسیع اصولوں پر ابتدائی اتفاقِ رائے تک پہنچ چکے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ فوری جنگ بندی یا حتمی معاہدے کا امکان ابھی موجود نہیں اور اس عمل میں مزید کئی روز لگ سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے کسی بھی معاہدے کی حتمی منظوری ایک پیچیدہ مرحلہ ہے، جس کیلئے وقت درکار ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی کئی نکات پر تفصیلی بات چیت باقی ہے اور کوئی بھی اعلان قبل از وقت ہوگا۔
ادھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو یقین ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مجوزہ معاہدے کے بنیادی خدوخال پر ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن سفارتی حلقوں میں اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی حالیہ بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی حتمی فیصلے کیلئے سپریم لیڈر کی منظوری ناگزیر ہوگی۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ تہران مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے، لیکن قومی سلامتی اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر ایران محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “معاہدہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوا” تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی معاہدہ ہوا تو وہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے جوہری معاہدے سے “بالکل مختلف” ہوگا۔ ٹرمپ نے ماضی میں اوباما دور کے ایران نیوکلیئر ڈیل کو “کمزور اور ناکام” قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی نئی مفاہمت کا راستہ نکلتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس سے متاثر ہوگا۔ خاص طور پر اسرائیل، خلیجی ممالک، عالمی تیل مارکیٹ اور خطے کی سلامتی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا کی نظریں تین اہم نکات پر مرکوز ہیں: ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں ایران کے اتحادی گروپس کا کردار، اور امریکا کی جانب سے ممکنہ پابندیوں میں نرمی۔ اگر ان معاملات پر کوئی درمیانی راستہ نکالا گیا تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس معاملے پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے تعلقات ہمیشہ بداعتمادی، دباؤ اور طاقت کی سیاست کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ مذاکرات اگرچہ امید کی ایک کرن ضرور ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان ماضی کی تلخیاں اتنی گہری ہیں کہ کسی بھی مرحلے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ایران اس وقت معاشی دباؤ، پابندیوں اور اندرونی سیاسی مسائل کا سامنا کر رہا ہے جبکہ امریکا بھی مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ سے بچنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریق ایک محدود مفاہمت کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
عوامی سطح پر بھی اس پیش رفت پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض حلقے اسے خطے میں امن کیلئے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان کسی بھی وقت معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو کیا اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی؟ جبکہ بعض افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل اس ممکنہ معاہدے پر سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر واقعی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران کیلئے معاشی ریلیف کا باعث بن سکتا ہے بلکہ خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات کو بھی کم کر سکتا ہے۔ تاہم ابھی تمام نظریں تہران اور واشنگٹن کی آئندہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
عوامی سوال
کیا آپ کے خیال میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن لا سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں