شوگر کے مریضوں کو روزانہ نہیں اب ہفتے میں ایک انسولین انجکشن لگےگا

لاہور:ڈنمارک کی معروف دوا ساز کمپنی نے بھارت میں دنیا کی پہلی ہفتہ وار انسولین متعارف کرا دی ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ انجیکشن لگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس نئی پیش رفت کے بعد سال بھر میں 365 انجیکشن کے بجائے صرف 52 انجیکشن کافی ہوں گے، جس سے علاج کا عمل پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہل ہو جائے گا۔

کمپنی کے بھارت میں منیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک نئی دوا نہیں بلکہ بالخصوص ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے علاج کے طریقہ کار میں نمایاں بہتری کی علامت ہے۔ ان کے مطابق روزانہ انسولین لگوانے کا خوف بہت سے مریضوں کو بروقت علاج شروع کرنے سے روکے رکھتا ہے، جبکہ ہفتہ وار انسولین اس نفسیاتی رکاوٹ کو بڑی حد تک ختم کر سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق روزانہ انجیکشن لینے اور مسلسل خون میں شوگر کی نگرانی کی پیچیدگی کے باعث متعدد مریض انسولین تھراپی شروع کرنے میں اوسطاً سات سے نو سال تک تاخیر کر دیتے ہیں۔ نئی ہفتہ وار انسولین کا مقصد علاج کو زیادہ آسان، قابلِ قبول اور مریض دوست بنانا ہے تاکہ لوگ بروقت انسولین کا استعمال شروع کر سکیں۔

اس دوا کی منظوری 18 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے دی گئی ہے۔ اسے خصوصی “فلیکس ٹچ پین” کے ذریعے استعمال کیا جائے گا، جس سے انجیکشن لگانے کا طریقہ مزید سہل بنایا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انسولین کی تیاری ڈنمارک میں ہوگی جبکہ اسے درآمد کرکے بھارت میں دستیاب کرایا جائے گا۔ کمپنی نے اس کی قیمت بھی ایسے درجے پر رکھی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہفتہ وار انسولین کی افادیت روزانہ استعمال ہونے والی انسولین کے برابر دیکھی گئی ہے، جبکہ اس کے استعمال سے ہائپوگلیسیمیا، یعنی خون میں شوگر کی خطرناک حد تک کمی کے واقعات بھی نسبتاً کم سامنے آئے ہیں، جو مریضوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔