ایران جنگ میں امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے؟ امریکی کانگریس میں حیران کن دعویٰ

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

United States کی کانگریس میں ایک حالیہ سماعت کے دوران Iran کے ساتھ مبینہ جنگی صورتحال میں امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچنے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جس کے بعد دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ڈیموکریٹک رکن کانگریس Ed Case نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں پینٹاگون کے چیف فنانشل آفیسر Jay Hurst سے اس معاملے پر سخت سوالات کیے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے واضح جواب دینے کے بجائے محتاط اور مبہم مؤقف اختیار کیا گیا۔

“39 طیارے تباہ ہوئے”

Ed Case نے اپنی گفتگو میں امریکی دفاعی ویب سائٹ The War Zone کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ 39 روزہ مبینہ جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے تقریباً 13 ہزار فضائی مشنز مکمل کیے۔

رپورٹ کے مطابق اسی دوران امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے جبکہ مزید 10 مختلف نوعیت کے نقصان کا شکار ہوئے۔ دعویٰ کیا گیا کہ متاثر ہونے والے عسکری اثاثوں میں 24 MQ-9 Reaper ڈرونز، متعدد F-15 Eagle اور A-10 Thunderbolt II لڑاکا طیارے شامل تھے۔

ایف-35 اسٹیلتھ طیارے سے متعلق بھی دعویٰ

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جدید F-35 Lightning II اسٹیلتھ طیارہ ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کا پائلٹ محفوظ رہا۔

مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعض امریکی طیارے Kuwait کی فضائی حدود میں بھی تباہ ہوئے جبکہ کچھ عسکری اثاثوں کو دشمن کے قبضے میں جانے سے روکنے کے لیے امریکی افواج نے خود تباہ کیا۔

سرکاری تصدیق تاحال نہیں ہوئی

اہم بات یہ ہے کہ ان تمام دعوؤں کی اب تک نہ تو United States Department of Defense کی جانب سے باضابطہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی کسی آزاد بین الاقوامی ذریعے نے ان معلومات کی مکمل توثیق کی ہے۔

پینٹاگون حکام نے کانگریس سماعت کے دوران براہِ راست تصدیق یا تردید سے گریز کیا، جس کے باعث قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکی فضائیہ کے لیے ایک غیر معمولی نقصان تصور کیا جائے گا، خصوصاً F-35 Lightning II جیسے جدید اسٹیلتھ طیارے کے حوالے سے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فضائی جنگ میں ڈرونز اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان اثاثوں کا نقصان عسکری حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

عالمی سطح پر توجہ

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق کانگریس میں اٹھنے والے یہ سوالات اس بات کی علامت ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے اثرات اب امریکی سیاسی اور عسکری حلقوں میں بھی موضوعِ بحث بنتے جا رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آتی ہیں تو یہ معاملہ امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔