“میں نے ایران معاملہ ایک میزائل فائر کیے بغیر حل کیا”، باراک اوباما کی ٹرمپ پر شدید تنقید

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Barack Obama نے ایران کے معاملے پر امریکی صدر Donald Trump کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ایران کا مسئلہ “ایک بھی میزائل فائر کیے بغیر” کامیابی سے حل کیا تھا۔

سابق امریکی صدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے Iran کو اپنے 97 فیصد افزودہ یورینیم سے دستبردار کرنے میں کامیاب رہی، اور یہ پورا عمل بغیر جنگ اور بڑے تصادم کے مکمل ہوا۔

Barack Obama نے کہا کہ “نہ ہمیں بہت سے لوگوں کو قتل کرنا پڑا، نہ خطے میں بڑی جنگ ہوئی اور نہ ہی Strait of Hormuz بند کرنا پڑی۔”

ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید

اوباما نے کہا کہ Donald Trump کی جانب سے شروع کی گئی ایران پالیسی اور جنگی حکمت عملی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری زیادہ مؤثر راستہ ثابت ہو سکتے تھے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے سفارتی ذرائع ہمیشہ پہلی ترجیح ہونی چاہئیں کیونکہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کرتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔

ایران جوہری معاہدہ پھر موضوعِ بحث

سیاسی مبصرین کے مطابق اوباما کا اشارہ 2015 کے ایران جوہری معاہدے کی جانب تھا، جسے Joint Comprehensive Plan of Action کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر متعدد پابندیاں قبول کی تھیں جبکہ اس کے بدلے میں عالمی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

بعد ازاں Donald Trump نے اپنے دورِ حکومت میں اس معاہدے سے امریکا کو الگ کر لیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔

عالمی ردعمل اور ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اوباما کے حالیہ بیانات امریکا میں خارجہ پالیسی سے متعلق جاری سیاسی تقسیم کو مزید نمایاں کر رہے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اوباما سفارت کاری کو کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ ٹرمپ سخت گیر پالیسیوں کے حامی رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ Strait of Hormuz کی بندش یا خطے میں جنگ کی صورت میں عالمی تیل منڈی، توانائی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ کا امن شدید متاثر ہو سکتا تھا، اسی لیے سفارتی حل کو زیادہ محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث

اوباما کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ صارفین نے ان کی سفارتی حکمت عملی کو سراہا جبکہ بعض حلقوں نے ٹرمپ کی سخت پالیسیوں کو ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے ضروری قرار دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا میں آئندہ انتخابات کے تناظر میں خارجہ پالیسی، ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق معاملات ایک بار پھر اہم سیاسی موضوع بنتے جا رہے ہیں۔