بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ کی طرح ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہے ہیں۔ فروری کے مہینے میں بھی پاکستانیوں نے اربوں ڈالر وطن بھیج کر معیشت کو سہارا دیا، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث ترسیلاتِ زر کے اس تسلسل پر خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
فروری میں ترسیلاتِ زر کی بڑی آمد
تفصیلات کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری کے مہینے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر تین ارب 29 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے۔ یہ رقم ملکی معیشت کیلئے ایک اہم سہارا سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت میں زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں۔
متحدہ عرب امارات سے سب سے زیادہ رقم
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئیں۔ یو اے ای میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے تقریباً 70 کروڑ ڈالر پاکستان منتقل کیے، جو کہ مجموعی ترسیلات میں نمایاں حصہ ہے۔
سعودی عرب دوسرے نمبر پر
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھی ترسیلاتِ زر بھیجنے میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ فروری کے دوران سعودی عرب سے تقریباً 68 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے، جو کہ مجموعی رقم میں ایک بڑا حصہ ہے۔
معیشت کا ترسیلاتِ زر پر انحصار
ماہرین کے مطابق پاکستان کا برآمدی شعبہ ابھی تک اتنا مضبوط نہیں ہو سکا کہ وہ معیشت کو مکمل طور پر سہارا دے سکے۔ اسی وجہ سے ملکی معیشت بڑی حد تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر انحصار کرتی ہے، اور ان رقوم کا زیادہ حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار
گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 38 ارب 50 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ ان میں سے تقریباً 55 فیصد یعنی 21 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی تھی، جو اس خطے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
جنگی کشیدگی کے باعث خدشات
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کی صورتحال کے باعث خطے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی آمدنی اور ملازمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔