پی ٹی آئی میں اختلافات ختم کرنے کیلئے بڑا قدم، اسد قیصر کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی قائم

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰPakistan Tehreek-e-Insaf نے خیبرپختونخوا میں پیدا ہونے والے اندرونی اختلافات اور تنظیمی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 6 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

پارٹی قیادت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی کی سربراہی Asad Qaiser کریں گے، جبکہ اس میں Babar Saleem Swati، Ali Asghar Khan، Meena Khan، Akbar Ayub Khan اور Atif Khan شامل ہوں گے۔

اختلافات پر قابو پانے کی کوشش

سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں Pakistan Tehreek-e-Insaf خیبرپختونخوا کے اندر مختلف امور پر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جس کے بعد پارٹی قیادت نے معاملات کو منظم انداز میں چلانے کیلئے اس کمیٹی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی پارلیمانی پارٹی اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے کا کردار ادا کرے گی تاکہ حکومتی پالیسیوں اور پارٹی فیصلوں میں مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔

کمیٹی کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی صرف رابطہ کاری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اہم سیاسی اور تنظیمی معاملات پر مشاورت کا مرکزی فورم بھی ہوگی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا Sohail Afridi، صوبائی صدر اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت کے درمیان مشاورت کو بھی یقینی بنائے گی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا اور مستقبل کے سیاسی چیلنجز کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

عوامی اور سیاسی ردعمل

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے بروقت قدم اٹھا کر اختلافات کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی ہے، جبکہ بعض ناقدین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ صوبائی سطح پر بعض معاملات میں ہم آہنگی کا فقدان موجود تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی کارکنان کی جانب سے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئی کمیٹی پارٹی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنائے گی۔

ماہرین کی رائے

سیاسی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا Pakistan Tehreek-e-Insaf کا سب سے اہم سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والے کسی بھی داخلی اختلاف کا براہ راست اثر پارٹی کی مجموعی سیاسی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسد قیصر کو کمیٹی کا سربراہ بنانا ایک اہم سیاسی پیغام ہے کیونکہ وہ پارٹی کے سینئر، نسبتاً مفاہمتی اور تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ کمیٹی محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں حکومت، پارلیمانی پارٹی اور تنظیم کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا موجودہ سیاسی حالات میں پی ٹی آئی کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹی فعال انداز میں کام کرتی ہے تو یہ نہ صرف اندرونی اختلافات کم کر سکتی ہے بلکہ آئندہ سیاسی معرکوں کیلئے پارٹی کو زیادہ منظم بھی بنا سکتی ہے۔