جائیداد کی لالچ میں بچوں نے والد کو ذہنی مریض قرار دے کر بحالی مرکز پہنچا دیا، ہائیکورٹ کا بڑا حکم

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم مقدمے میں جائیداد کے تنازع پر مبینہ طور پر ذہنی مریض قرار دے کر بحالی مرکز میں داخل کرائے گئے شخص کو بازیاب کرانے کا حکم جاری کر دیا۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق دولت اور جائیداد کی لالچ میں بچوں نے اپنے والد ناصر خان دولتانہ کو ذہنی مریض قرار دے کر زبردستی بحالی مرکز منتقل کر دیا تھا تاکہ ان کی جائیداد پر مکمل اختیار حاصل کیا جا سکے۔

عدالت میں کیا ہوا؟

درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے کی، جہاں تھانہ شادمان پولیس نے ناصر خان دولتانہ کو عدالت میں پیش کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ صغراں گلزار نے دلائل پیش کیے۔

28 کروڑ روپے کی زمین کا معاملہ

عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر خان دولتانہ کے نام وہاڑی کے علاقے لڈن میں قیمتی کمرشل اراضی موجود ہے۔

وکیل کے مطابق ناصر خان دولتانہ نے 19 جون 2026 کو اپنی 8 ایکڑ زمین 28 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ کیا، جس کے بعد ان کے بچوں نے مبینہ طور پر انہیں ذہنی مریض قرار دے کر بحالی مرکز منتقل کر دیا۔

والد پہلے ہی 80 ایکڑ زمین منتقل کر چکے تھے

عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر خان دولتانہ اپنے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کے نام پہلے ہی 80 ایکڑ زمین منتقل کر چکے تھے۔

درخواست کے مطابق زمین کی فروخت کے معاہدے کے چند روز بعد، 28 جون 2026 کو انہیں زبردستی ویلنگ ویز سینٹر میں داخل کرا دیا گیا۔

عدالت کا فیصلہ

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک صحت مند شخص کو غیر قانونی طور پر ذہنی مریض قرار دے کر بحالی مرکز میں رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔

تمام دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے ناصر خان دولتانہ کی بازیابی اور رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

قانونی اور سماجی پہلو

قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو جائیداد یا مالی مفادات کے لیے جھوٹے الزامات کے تحت ذہنی مریض قرار دے کر آزادی سے محروم کیا جائے تو یہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ سنگین قانونی جرم بھی ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ مقدمہ خاندانی جائیداد کے تنازعات کے خطرناک پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اگر عدالت میں پیش کیے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ صرف جائیداد کے تنازع تک محدود نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق، بزرگ شہریوں کے تحفظ اور قانون کے غلط استعمال سے بھی متعلق ہے۔ ایسے مقدمات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خاندانی تنازعات میں قانونی نگرانی اور شفاف تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔

آپ کے خیال میں جائیداد کے تنازعات میں بزرگ والدین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جانے چاہییں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔