معاہدہ ناکام ہونے کا پہلے ہی علم تھا، ایران کے خلاف امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے: اسرائیل

لاہور:مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال ایک بار پھر نئے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ سفارتی کشیدگی کے ساتھ عسکری سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیل کی تازہ ترین پوزیشن نے خطے میں ممکنہ پیش رفت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ فوج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں موجود ہے اور اگر حکومت کی جانب سے باقاعدہ ہدایات جاری کی گئیں تو اسرائیلی افواج ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں امریکی فوج کے ساتھ مل کر حصہ لینے کے لیے تیار ہوں گی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے فوراً بعد ہی فوج نے اپنی تیاریوں کا سلسلہ جاری رکھا، کیونکہ اسرائیلی حکام نے ایران کی یقین دہانیوں کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا۔ ان کے بقول اسرائیل نے ابتدا ہی سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ تہران کے بیانات محض وقتی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، اسی لیے دفاعی تیاریوں میں کوئی نرمی نہیں برتی گئی۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے ایران کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران کی پالیسی میں زمینی حقائق کا مناسب اندازہ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جیسے وہ حالیہ کشیدگی میں کامیابی حاصل کر چکی ہو، جبکہ وہ امریکا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے حوالے سے صبر زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا۔ ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج اس تمام صورتحال میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مسلسل رابطے اور قریبی تعاون کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔