کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر ایران کے شدید حملے

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے حملے کیے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
بیان میں بتایا گیا کہ کویت میں امریکی فوج کے تین اہم اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں الادائری ہیلی کاپٹر اڈا، محمد الاحمد بحری اڈا اور علی السالم فضائی اڈا شامل ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین میں بھی ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔
اب تک کویت، بحرین یا امریکا کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ فروری کے آخری دنوں میں اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کیے تھے جو اب تک جاری ہیں۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے دوران ایران کے وزیر دفاع، بری فوج کے سربراہ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ اور قومی سلامتی کے مشیر سمیت کئی اعلیٰ حکام بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان واقعات کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جس کے نتیجے میں سات فوجی ہلاک جبکہ درجن سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔