خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو کھلا چیلنج دے دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
“آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں”
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر خارگ جزیرے پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے تو “آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ایران خارگ جزیرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا بھرپور مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ملکی دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
عراقچی کا سخت مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دھمکی آمیز اور جارحانہ بیان بازی سے ایرانی قوم کے حوصلے، وقار یا مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
کشیدگی کیوں بڑھی؟
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب امریکا نے ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائیاں کیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئیں، جبکہ ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
خطے کی صورتحال تشویشناک
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے سخت بیانات اور فوجی سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، سمندری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ اب عملی فوجی کشیدگی میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے، اس لیے اس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ عالمی تیل کی منڈی اور خطے کے امن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ آئندہ چند روز اس بحران کی سمت کے تعین میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
آپ کے خیال میں کیا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سفارتی مذاکرات کے ذریعے کم ہو سکے گی یا صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔