امریکا کے ایران پر حملے جاری، تہران کا بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر جوابی وار

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران پر تازہ حملوں کا جواز دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔

ایران کا جوابی حملے کا دعویٰ

ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

دوسری جانب کویت کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے متحرک رہا، جبکہ قطر نے بھی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

امریکا کا مؤقف

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا اور حالیہ بحری حملوں کا جواب دینا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق خطے میں بحری سلامتی برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کا جواب ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ ایسے اقدامات کیے تو صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔

خطے میں تشویش برقرار

تازہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی حساس جغرافیائی حیثیت کے باعث کسی بھی مزید تصادم کے عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور سفارتی تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ آئندہ چند روز میں ہونے والی پیش رفت اس بحران کی سمت کا تعین کرے گی۔

آپ کے خیال میں کیا دونوں ممالک سفارتی مذاکرات کی طرف واپس آ سکیں گے یا کشیدگی مزید بڑھے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔