ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا، نیٹو پر بھی عدم اطمینان کا اظہار

انقرہ: عالمی سفارت کاری ایک بار پھر کشیدگی کے نئے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، نیٹو اور واشنگٹن کی خارجہ حکمتِ عملی پر ایسے بیانات دیے ہیں جن سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کے تازہ مؤقف نے نہ صرف تہران کے لیے سخت پیغام دیا ہے بلکہ نیٹو اتحادیوں کے کردار پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی کارروائی کسی پیشگی جارحیت کے بجائے ایرانی حملوں کے ردِعمل میں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے شہریوں، مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن کسی بھی صورت تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل بے نتیجہ رہا اور ایرانی قیادت نے بات چیت کے نام پر بہت وقت ضائع کیا۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں اب عملی طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے رویے نے کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش کم کر دی ہے، اسی لیے امریکا اب ایران کے ساتھ کسی نئی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور وہاں نئی قیادت ابھر رہی ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس کی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

نیٹو سے متعلق گفتگو میں صدر ٹرمپ کا لہجہ خاصا تنقیدی رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتحاد کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن نہیں، خاص طور پر ایران کے معاملے پر نیٹو نے امریکا کا وہ ساتھ نہیں دیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق واشنگٹن نیٹو کو سب سے زیادہ مالی تعاون فراہم کرتا ہے، اس لیے اتحادی ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کو امریکا کی ضرورت زیادہ ہے، امریکا کو نیٹو کی اتنی ضرورت نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت اور تعمیری رہی، جس میں عالمی اور علاقائی سلامتی سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔

اسپین سے متعلق ایک سوال پر ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسپین کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ تاہم انہوں نے اس بیان کی تفصیل یا پس منظر واضح نہیں کیا۔

ایران پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ تہران گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ امریکا ایران کی پالیسیوں کو مزید نظرانداز نہیں کر سکتا۔

بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے پر دباؤ کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب نیٹو کے حوالے سے ان کی تنقید ظاہر کرتی ہے کہ ایران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر مغربی اتحاد کے اندر بھی مکمل ہم آہنگی موجود نہیں