خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
امریکا نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ایران کو تیل فروخت کرنے کے لیے دی گئی عارضی رعایت بھی واپس لے لی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق منگل کو ہونے والی کارروائیوں کا مقصد ایران کی سمندری حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور حالیہ حملوں کا جواب دینا تھا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران 80 سے زائد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟
امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں پاسدارانِ انقلاب کے 60 سے زائد چھوٹے جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو تباہ کیا گیا۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی خطے میں امریکی اور بین الاقوامی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔
ایران میں دھماکے، متعدد علاقے متاثر
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خارگ آئل ٹرمینل، جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی گھاٹ پر نامعلوم میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض ماہی گیر کشتیوں میں آگ بھی لگ گئی۔ تاہم فوری طور پر کسی شہری ہلاکت کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، وہاں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ امریکی فوج نے اس مقام کو براہِ راست نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی۔
ایران کا سخت ردعمل
ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا اور ہر ممکن جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ
امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں ایران کو تیل کی فروخت اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمد کے لیے جاری کیا گیا عارضی جنرل لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔
واشنگٹن نے متعلقہ کمپنیوں کو 17 جولائی تک تمام تجارتی لین دین ختم کرنے کی مہلت دی ہے، جس کے بعد ایران پر تیل سے متعلق پابندیاں دوبارہ مکمل طور پر نافذ ہو جائیں گی۔
عالمی منڈی پر اثرات
امریکی فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
قطر اور ایران کے درمیان بھی تنازع
اسی دوران قطر نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک قطری ایل این جی ٹینکر سمیت دو تجارتی جہازوں پر حملوں میں ایران ملوث ہے۔
قطری حکومت نے ایرانی نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ بھی دیا، تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ بحری جہازوں نے ایران کے ساتھ رابطے کے بغیر متبادل راستے اختیار کیے، جس کے باعث انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹرمپ اور عباس عراقچی کے بیانات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقل معاہدہ نہ ہوا تو امریکا مزید سخت اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں کسی بھی حتمی معاہدے پر مذاکرات ممکن نہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق تازہ امریکی فضائی حملے، ایران پر دوبارہ عائد کی جانے والی تیل کی پابندیاں اور دونوں ممالک کے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک بار پھر انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتی ہے۔
آپ کے خیال میں کیا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ سکتی ہے یا سفارت کاری صورتحال کو سنبھال لے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔