خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رمیٹیوڈ آرتھرائٹس (Rheumatoid Arthritis) میں مبتلا ہزاروں افراد ایک خطرناک پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، جو بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں سانس لینے میں شدید مشکلات اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس ایک آٹو امیون بیماری ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی صحت مند جوڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں درد، سوجن اور اکڑاؤ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری کے اثرات صرف جوڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پھیپھڑے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
پھیپھڑوں کی کون سی بیماری لاحق ہو سکتی ہے؟
تحقیق کے مطابق بعض مریض رمیٹیوڈ آرتھرائٹس سے وابستہ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز (RA-ILD) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس بیماری میں پھیپھڑوں کے ٹشوز میں سوزش پیدا ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان پر داغ (Scarring) بننے لگتے ہیں، جس سے سانس لینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور مریض کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
یہ تحقیق معروف طبی جریدے دی لانسیٹ ریسپائریٹری میڈیسن میں شائع ہوئی، جس میں بین الاقوامی ماہرین نے رمیٹیوڈ آرتھرائٹس اور پھیپھڑوں کی بیماری کے درمیان تعلق کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور نیشنل جیوش ہیلتھ کے انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جوشوا سولومن کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس صرف جوڑوں کی بیماری نہیں بلکہ یہ پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے مریض کی مجموعی صحت اور معیارِ زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
ہر چھ میں سے ایک مریض متاثر ہو سکتا ہے
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے ہر چھ میں سے ایک مریض میں پھیپھڑوں کی کسی نہ کسی قسم کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ہر دس میں سے ایک مریض رمیٹیوڈ آرتھرائٹس سے وابستہ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز (RA-ILD) میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ شرح اس بیماری کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے اور اس حوالے سے بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے۔
بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیماری کا ابتدائی مرحلے میں پتہ چل جائے تو جدید ادویات کے ذریعے پھیپھڑوں کی سوزش کو کم کیا جا سکتا ہے، داغ پڑنے کے عمل کو سست کیا جا سکتا ہے اور مریض کی سانس لینے کی صلاحیت کو طویل عرصے تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
اسی لیے رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے مریض اگر مسلسل کھانسی، سانس پھولنے یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات محسوس کریں تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے مریضوں کی باقاعدہ نگرانی اور ضرورت کے مطابق پھیپھڑوں کے معائنے اس بیماری کی بروقت تشخیص میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے پیچیدگیوں کے خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ رمیٹیوڈ آرتھرائٹس صرف جوڑوں کی بیماری نہیں بلکہ جسم کے دیگر اہم اعضا، خصوصاً پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ ہر مریض میں یہ پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی، تاہم خطرے سے آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو رمیٹیوڈ آرتھرائٹس ہے تو کیا آپ نے کبھی پھیپھڑوں کے معائنے کے بارے میں سوچا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔