سعودی عرب پر ڈرون حملے، مملکت کا سخت ردعمل سامنے آگیا

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Saudi Arabia پر عراقی حدود سے ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق رکھتی ہے اور ان حملوں کا جواب مناسب وقت اور مقام پر دیا جائے گا۔

Ministry of Defense of Saudi Arabia کے مطابق عراق کی حدود سے داغے گئے 3 ڈرونز کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا گیا۔ سعودی فضائی دفاعی نظام نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ممکنہ نقصان کو روک دیا۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خطے میں تشویش کی لہر

سیاسی مبصرین کے مطابق Saudi Arabia پر حالیہ ڈرون حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پورا مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار ڈرون حملے خطے میں بڑے تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی شدید مذمت

دوسری جانب United Arab Emirates نے بھی سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

Ministry of Foreign Affairs of the United Arab Emirates نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اماراتی حکومت نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق ڈرون حملوں میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں جدید جنگی حکمت عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں کم لاگت ڈرونز کے ذریعے حساس تنصیبات اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ Saudi Arabia جیسے ممالک اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو فوری طور پر ناکام بنایا جا سکے۔

عالمی ردعمل کا امکان

بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر اس واقعے کے بعد خطے میں مزید جوابی کارروائیاں ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نئی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خلیجی خطہ عالمی توانائی سپلائی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔