رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Ebola وائرس کے پھیلاؤ نے عالمی سطح پر ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں اب تک 600 مشتبہ کیسز اور 139 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
World Health Organization (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ Tedros Adhanom Ghebreyesus نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کافی عرصے تک خاموشی سے پھیلتا رہا، جس کے باعث کیسز کی اصل تعداد سامنے آنے میں تاخیر ہوئی اور مزید مریض سامنے آنے کا خدشہ موجود ہے۔
“بندی بگیو” قسم کا پھیلاؤ
ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ Bundibugyo ebolavirus کی نایاب قسم کا حالیہ پھیلاؤ عالمی سطح پر صحت کا ہنگامی مسئلہ ہے، تاہم فی الحال اسے عالمی وبا قرار نہیں دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے وائرس کی بروقت تشخیص مشکل ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خاموشی سے زیادہ افراد تک منتقل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا غیر معمولی اقدام
Tedros Adhanom Ghebreyesus نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر انہوں نے ماہرین سے باضابطہ مشاورت مکمل ہونے سے پہلے ہی ایمرجنسی نافذ کر دی، جو ایک غیر معمولی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق عالمی ادارہ صحت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیموں اور ہنگامی وسائل کی فراہمی بڑھا دی گئی ہے۔
عالمی پھیلاؤ کا خدشہ
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وائرس کو ابتدائی مرحلے میں قابو نہ کیا گیا تو اس کے دیگر ممالک تک پھیلنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں طبی سہولیات محدود ہیں۔
ماہرین کے مطابق Ebola انتہائی خطرناک وائرس تصور کیا جاتا ہے، جو متاثرہ فرد کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور شدید بخار، اندرونی خون بہنے اور اعضا کے متاثر ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
احتیاطی اقدامات پر زور
World Health Organization نے متاثرہ علاقوں میں نگرانی، فوری ٹیسٹنگ، متاثرہ افراد کی آئسولیشن اور عوامی آگاہی مہمات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی صحت ماہرین کے مطابق ماضی میں بھی Ebola کے پھیلاؤ نے ہزاروں جانیں لی تھیں، اسی لیے اس وائرس کے ہر نئے پھیلاؤ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی صحت کے نظام کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف متعدی بیماریوں کے خطرات سے نمٹ رہی ہے۔