ایسے ہتھیار ہیں جو دنیا نے ابھی دیکھے نہیں”، ایران کا بڑا دعویٰ

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Iran نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس ایسے جدید اور خفیہ ہتھیار موجود ہیں جو اب تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیے گئے۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک ایرانی عسکری ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مقامی سطح پر جدید دفاعی اور حملہ آور ہتھیار تیار کیے ہیں، جن کا ابھی تک عملی استعمال یا باضابطہ تجربہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی ذریعے کے مطابق اگر United States کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران اس بار “تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا” اور ہر ممکن جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔

“دفاعی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں”

ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا کہ دفاعی ساز و سامان یا عسکری طاقت کے حوالے سے ملک کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں اور Iran اپنے دفاع کیلئے مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی دفاعی پروگرام مکمل طور پر قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے ہے اور اس کا مقصد بیرونی خطرات کا مؤثر جواب دینا ہے۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب Donald Trump نے حالیہ دنوں میں ایران کو دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا سخت اقدام کرسکتا ہے۔

امریکی اور مغربی حکام مسلسل ایران کے میزائل پروگرام اور عسکری صلاحیتوں پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ تہران ان خدشات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

آبنائے ہرمز پر عالمی تشویش

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحرانی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً Strait of Hormuz اور خلیجی خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کیلئے انتہائی اہم راستہ ہے اور کسی بھی عسکری تصادم کی صورت میں عالمی توانائی منڈی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کی رائے

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق Iran گزشتہ برسوں میں اپنے میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے، جس کے باعث خطے میں طاقت کا توازن مزید حساس ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے ناکام ہوئے تو صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔