اسلام آباد ؛– 7 مارچ 2026 حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ میں آ کر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد اب وجہ سامنے آ گئی ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 32 روپے کے بجائے زیادہ اضافہ کیوں کیا گیا۔ وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 20 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مکمل طور پر عوام پر منتقل نہیں کیا گیا۔ اگر صرف عالمی منڈی کے اضافے کو ہی قیمتوں میں شامل کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت 32 سے 35 روپے فی لیٹر تک بڑھ جاتی۔
حکومت نے پیٹرول پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو 85 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ اس اضافے سے پیٹرول پر عائد لیوی 55 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اضافہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت ٹیکس اور لیویز میں اضافے کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ مالیاتی خسارے کو کم کیا جا سکے اور قرضوں کی شرائط پوری کی جا سکیں۔
یہ اقدام عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنے کا باعث بن رہا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اگر لیوی نہ بڑھائی جاتی تو پیٹرول کی قیمت میں 35 روپے تک اضافہ ہونا پڑتا