کراچی: گل رعنا کالونی سولجر بازار میں گیس سلنڈر دھماکا، 15 افراد جاں بحق

شہر قائد کراچی کے علاقے گل رعنا کالونی، سولجر بازار میں واقع ایک رہائشی عمارت میں گیس سلینڈر کے دھماکے کے نتیجے میں پوری عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے باعث ایک بچی سمیت کم از کم 15 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ گلی نمبر 05 کے قریب آغا خان اسکول کے علاقے میں پیش آیا۔
اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز اور رضا کاروں نے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کیا، جہاں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں طلحہ اور 60 سالہ ریاض بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی عمارتیں بھی لرز اٹھیں اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایس ایس پی جمشید ڈویژن کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 4 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت گراؤنڈ پلس دو منزلہ تھی اور گارڈر پر تعمیر کی گئی تھی۔ عمارت کے گرنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد نے بتایا کہ گیس بلاسٹ پہلی منزل پر سحری کے وقت ہوا، جو بظاہر گیس لیکیج کا نتیجہ تھا۔ عمارت میں چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے اور جگہ انتہائی تنگ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق یہ عمارت قانونی طور پر منظور شدہ نہیں تھی بلکہ ایک ایک کمرے پر مشتمل غیر قانونی تعمیر تھی۔ عمارت گرنے سے اطراف کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے دور رہیں تاکہ ریسکیو آپریشن متاثر نہ ہو۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ملبے تلے مزید ایک سے دو افراد کے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔
ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے 10 سالہ سجاد کی لاش بھی نکال لی ہے۔ اس کے علاوہ دو خواتین کی لاشیں بھی برآمد کی گئیں، جن میں 44 سالہ زینب اور 17 سالہ افشاں شامل ہیں۔
ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید ایک لاش ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور متعلقہ محکمہ یہ تعین کرے گا کہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی۔ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جاں بحق افراد میں 60 سالہ محمد شاہد ولد غلام رسول، 50 سالہ وکیہ ولد چھوٹا، 14 سالہ بلاول ولد وکیہ، 10 سالہ پدھرا دختر وکیہ، 6 سالہ عدنان ولد وکیہ، 7 سالہ ریاض ولد وکیہ، 25 سالہ تسلیم دختر وکیہ، 6 سالہ زین العابدین ولد کامران، 40 سالہ کامران ولد نذر محمد، 12 سالہ سنہان ولد وکیہ، 13 سالہ کوثر دختر انور علی، 55 سالہ آمنہ زوجہ وکیہ اور 18 سالہ جنید ولد محمد انور شامل ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔ حکام کی جانب سے مکمل تحقیقات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔