ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیا گیا غزہ کا بورڈ آف پیس اپنا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں شروع ہوگیا، جہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے سفارتی وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز پر شریک رہنماؤں نے امریکی صدر کے ہمراہ یادگاری تصاویر بھی بنوائیں، جسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے عاصم منیر کو ایک عظیم انسان، باصلاحیت سپہ سالار اور مضبوط اعصاب کے حامل رہنما قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی کوششوں اور انسانی جانوں کے تحفظ میں کردار پر انہیں سراہا گیا۔
صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کی قیادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے بھی خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا ہے اور امن کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مداخلت کرکے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔ ان کے بقول انہوں نے بھارتی قیادت کو واضح پیغام دیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو سخت تجارتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس تنازع کے دوران کئی طیاروں کے گرائے جانے کا بھی ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کوششوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں آٹھ طویل تنازعات کا خاتمہ ممکن ہوا، جن میں سے بعض تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری تھے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایک اور بڑا تنازع بھی جلد ختم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسے نہایت پیچیدہ قرار دیا اور Hamas پر تنقید کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنظیم معاہدے کی پاسداری کرے گی، ہتھیار ڈال دے گی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کے ساتھ بھی ممکنہ پیش رفت کی توقع ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے بہتر اور مستحکم مستقبل کے لیے ہی “بورڈ آف پیس” تشکیل دیا گیا ہے، جس میں کئی دوست ممالک شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس فورم کا مقصد جنگ کے بجائے ترقی، استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے سات ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا جا چکا ہے، جسے وہ خطے میں امن اور تعمیر نو کے لیے سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں، امریکا غزہ کی بحالی کے لیے دس ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ FIFA غزہ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً پچھتر ملین ڈالر جمع کرنے میں مدد دے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک ہم آہنگ اور مستحکم مشرقِ وسطیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا غزہ مطلوب ہے جہاں مؤثر طرز حکمرانی ہو اور عالمی برادری کو امن قائم رکھنے کے لیے فوجی مداخلت کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن کے قیام کے لیے اجتماعی کوششیں جاری ہیں اور اس ضمن میں Saudi Arabia، United Arab Emirates اور Pakistan سمیت متعدد ممالک تعاون کر رہے ہیں۔