وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ احتجاج اور مذاکرات کی نگرانی علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سونپی گئی ہے۔ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انہیں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمہ داری دی ہے، جس کے تحت “عمران خان رہائی فورس” قائم کی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ اس فورس میں پی ٹی آئی کے مختلف شعبے، آئی ایس ایف اور وومن ونگ سمیت تمام طبقات شامل ہوں گے۔ فورس کا حلف عید کے بعد پشاور میں لیا جائے گا اور اس کے بعد آئندہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے متعلق میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی حالت تشویشناک رہی اور جیلر کی مجرمانہ کوتاہی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ حکومت مزید لاپرواہی نہ کرے، تاہم پرامن احتجاج کو روک دیا گیا اور حکومتی رویہ غیر آئینی رہا۔ اراکین اسمبلی کی گرفتاریوں اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنا بھی قابلِ مذمت ہے۔
علامہ ناصر عباس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بینائی کو نقصان پہنچنے پر محمود خان اچکزئی نے بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تھی، اور اب آنکھ میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو رسائی دی جائے اور خاندان و وکلا کو بھی شامل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ وکیل سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی 80 فیصد بینائی متاثر ہوئی تھی، جس سے شدید تشویش پیدا ہوئی۔ علاج میں تاخیر مجرمانہ فعل تھا، تاہم اب کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، مگر اب بھی ابہام موجود ہے۔
علامہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملاقات کا پیغام بھیجا ہے، اور رمضان المبارک کے آغاز کے پیش نظر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئندہ لائحہ عمل جلد طے کیا جائے گا۔
سیاسی ماہرین کی رائے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق:
-
“رہائی فورس” کا اعلان تحریک کو منظم اور مرحلہ وار انداز میں چلانے کی حکمت عملی ہو سکتا ہے۔
-
عید کے بعد حلف برداری کا اعلان اسٹریٹ موومنٹ کو رسمی شکل دینے کا اشارہ ہے۔
-
میڈیکل رپورٹس کو قانونی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
-
رمضان کے دوران احتجاجی سرگرمیوں میں وقفہ سیاسی درجہ حرارت کم رکھنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق “عمران خان رہائی فورس” کا اعلان سیاسی دباؤ بڑھانے کی نئی حکمت عملی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام صرف احتجاجی مظاہروں تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم اسٹریٹ اسٹرکچر بنانے کی کوشش ہے۔
غلام مرتضیٰ کہتے ہیں کہ میڈیکل رپورٹس کو سامنے لانا قانونی اور اخلاقی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی اسٹریٹ موومنٹ کی کامیابی کا دارومدار عوامی شرکت، سیاسی اتحاد اور ریاستی ردعمل پر ہوتا ہے۔
ان کے مطابق عید کے بعد اعلان کردہ لائحہ عمل آئندہ سیاسی منظرنامے کا رخ متعین کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اس تحریک کا حصہ بنتی ہیں یا نہیں۔