اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے بعد اب بجلی صارفین پر بھی نیا بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جنوری 2026 کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں دائر کر دی ہے۔
سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق جنوری میں بجلی کی اصل فی یونٹ لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی، جبکہ ریفرنس لاگت 10 روپے 39 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔ اس فرق کی وجہ سے صارفین سے 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ اضافی وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوری میں کل 9 ارب 14 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ بجلی کمپنیوں کو 8 ارب 76 کروڑ 20 لاکھ یونٹس فراہم کی گئیں۔ یہ اضافہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دیگر عوامل کی وجہ سے ہے۔
نیپرا اس درخواست پر 26 فروری 2026 کو عوامی سماعت کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر منظوری مل گئی تو یہ اضافہ صارفین کے فروری یا مارچ کے بلوں میں شامل ہو سکتا ہے، جو گھریلو اور صنعتی صارفین پر مزید مالی دباؤ ڈالے گا۔
یہ پیش رفت مہنگائی کے سلسلے میں ایک اور جھٹکا ہے، جہاں عوام پہلے ہی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیا کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہیں۔ نیپرا کا حتمی فیصلہ صارفین کے لیے اہم ہوگا، اور اس سماعت میں عوامی نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے بھی سنی جائے گی۔