راولپنڈی: جی ایچ کیو حملہ کیس میں بڑا فیصلہ، 47 ملزمان کو 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ

راولپنڈی (ویب ڈیسک) – 7 مارچ 2026 انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ہر ملزم پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے اور ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سنایا۔ سزا پانے والے ملزمان میں سابق وفاقی وزراء اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں جن میں عمر ایوب خان، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، احمد اظہر، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرہ، اعجاز خان جازی، کنول شوزب، حماد اظہر اور شیخ راشد شفیق سمیت دیگر شامل ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق تمام 47 ملزمان کو 9 مئی کے واقعات کی سازش میں ملوث پایا گیا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق یہ ملزمان پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ سزا یافتہ ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو اسٹیشن پر حملوں میں ملوث تھے۔ ان پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی ثابت ہوئے۔

عدالت نے مزید بتایا کہ اس مقدمے میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سمیت مجموعی طور پر 118 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جو دسمبر 2024 میں عائد ہوئی۔ مقدمے میں اب تک استغاثہ کے 44 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

118 ملزمان میں سے 18 دوران ٹرائل مسلسل غیر حاضر رہے جبکہ 29 ملزمان مقدمہ درج ہونے کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔ عدالت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا۔

پراسیکیوشن نے 6 جنوری 2026 کو سیکشن 19/10 کے تحت اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے انکوائری تشکیل دی۔ انکوائری میں 47 ملزمان کو دیدہ دانستہ مفرور قرار دیا گیا۔

عدالت نے اخبارات میں اشتہار جاری کروایا اور 8 جنوری کو مفرور ملزمان کا اشتہار شائع کیا گیا۔ ملزمان کو 7 دن کے اندر سرنڈر کرنے کا موقع دیا گیا مگر کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔

بعد ازاں عدالت نے اشتہاری ملزمان کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کی اور چارج فریم کیا۔ پراسیکیوشن نے 19 گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے جبکہ اسٹیٹ کونسل نے جرح بھی کی۔

ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا کہ تمام 47 ملزمان کو 10 سال قید، 5 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی جاتی ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید کی سزا بھی بھگتنی ہوگی۔

یاد رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔