واشنگٹن (ویب ڈیسک) – 6 مارچ 2026 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس جنگ میں ایران سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے اور سب سے پہلے ایران کو ختم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ہر گھنٹے ایران کی میزائل اور ڈرون کی طاقت کو کم کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب نہ تو فضائیہ باقی ہے اور نہ ہی کوئی موثر فضائی دفاعی نظام بچا ہے، بلکہ ان کے تمام طیارے بھی تباہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا یقینی بنائے گا کہ آئندہ جو بھی ایران کی قیادت کرے گا، وہ نہ امریکا کو اور نہ ہی اسرائیل کو کوئی دھمکی دے سکے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے ڈیل یا مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن امریکا نے جواب دیا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈرز اور دنیا بھر میں تعینات ایرانی سفارتکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ حکومت سے علیحدگی اختیار کریں۔ انہوں نے ایرانی سفارتکاروں سے کہا کہ وہ مختلف ممالک میں موجود ایرانی سفارت خانوں سے الگ ہو کر پناہ حاصل کریں اور ایک نئے اور بہتر ایران کی تشکیل میں امریکا کا ساتھ دیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر پاسداران انقلاب کے کمانڈرز اپنے عہدے چھوڑ دیں تو انہیں مکمل استثنیٰ دیا جائے گا، ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ امریکی صدر نے عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے جلد اقدامات اٹھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ بیان ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہری تشویش کا باعث بن رہا ہے۔