ایران سے ڈیل نہ ہوئی تو بھی یورینیم حاصل کر لیں گے:ٹرمپ

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ بھی ہو تب بھی امریکا افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ کامیاب معاہدے کی صورت میں ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی نکتہ یہی ہوگا کہ تہران جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رہے۔

ایران کیلئے سخت وارننگ

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے امریکی فوج یا مفادات پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسے جنگ دوبارہ شروع ہونے کا جواز سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی نازک صورتحال برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔

آبنائے ہرمز کا معاملہ

ٹرمپ نے اس موقع پر آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی قابل قبول معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس اہم بحری گزرگاہ میں بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال ہو سکیں گی۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔

سپریم لیڈر سے ملاقات کا امکان

صدر ٹرمپ نے کہا کہ فی الحال وہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب رہے اور معاہدہ طے پا گیا تو ایسی ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی راستے بھی مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔

لبنان اور حزب اللہ پر گفتگو

امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کا قیام لبنان کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ سے متعلق معاملات اور علاقائی استحکام پر بھی بات چیت جاری ہے۔

عالمی ردعمل

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ایک جانب مذاکرات کی بات ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب فوجی کارروائی کے امکانات کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔

یورپی اور خلیجی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

عوامی اور سفارتی حلقوں کی رائے

سفارتی حلقوں کے مطابق امریکا اور ایران دونوں کیلئے مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم اعتماد کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ٹرمپ کے بیانات پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض حلقے اسے سفارتی لچک قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اسے دباؤ کی نئی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کے تازہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے میں “دباؤ اور مذاکرات” کی دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک طرف جنگ کا اشارہ دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب سپریم لیڈر سے ممکنہ ملاقات کی بات کر کے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق آنے والے ہفتے امریکا اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ کسی بھی پیش رفت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔