لاہور :امیر الدین میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ ذہنی صحت انسانی زندگی کا ایسا اہم پہلو ہے جسے جسمانی صحت سے بھی زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسمانی کمزوری یا معذوری کے باوجود انسان کسی حد تک اپنی روزمرہ زندگی گزار سکتا ہے، لیکن ذہنی بیماری انسان کو مکمل طور پر دوسروں کا محتاج بنا سکتی ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ شیزوفرینیا اور دیگر نفسیاتی امراض کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر بیماری کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جائے تو متاثرہ افراد نہ صرف معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ معاشرے کے فعال اور باوقار رکن بھی بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض سے وابستہ غلط تصورات اور سماجی بدنامی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں تاکہ مریضوں کو ہمدردی، قبولیت اور مناسب تعاون فراہم کیا جا سکے۔
یہ خیالات انہوں نے عالمی یومِ آگاہی برائے شیزوفرینیا کے سلسلے میں لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی واک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اظہار کیے۔
ہسپتال میں منعقد ہونے والی واک میں شعبہ امراضِ نفسیات کی سربراہ پروفیسر فائزہ اطہر، سینئر معالجین، ہیلتھ پروفیشنلز، میڈیکل طلبہ اور پیرامیڈیکل سٹاف نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر شیزوفرینیا کے مریضوں کے ساتھ مثبت رویے، ان کے احترامِ نفس کی بحالی اور بروقت علاج کی اہمیت سے متعلق پیغامات درج تھے۔
تقریب کے دوران شعبہ نفسیات کی جانب سے ایک خصوصی آگاہی خاکہ بھی پیش کیا گیا جس میں شیزوفرینیا کے مریضوں کو درپیش معاشرتی چیلنجز، اہلِ خانہ کی ذمہ داریوں اور بروقت طبی امداد کی ضرورت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔
پروگرام کے اختتام پر ذہنی صحت کے فروغ اور نفسیاتی بیماریوں سے جڑی سماجی بدنامی کے خاتمے کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کیک کاٹا گیا۔
اس موقع پر پروفیسر فائزہ اطہر نے شیزوفرینیا کی علامات اور علاج سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مریض کو ایسی آوازیں سنائی دے سکتی ہیں یا ایسی چیزیں دکھائی دے سکتی ہیں جن کا حقیقت میں وجود نہیں ہوتا۔ اس کیفیت کے باعث انسان کی سوچنے، سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ادویات، نفسیاتی مشاورت اور مسلسل طبی نگرانی کی مدد سے شیزوفرینیا کے مریض ایک معمول اور باقاعدہ زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خاندان کا تعاون علاج میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی فرد میں مسلسل تنہائی اختیار کرنے، ذہنی الجھن، چڑچڑے پن یا غیر موجود آوازیں سننے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ماہرِ نفسیات سے رابطہ کرنا چاہیے، کیونکہ باقاعدگی سے دوا کا استعمال اور مستقل فالو اپ ہی علاج کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے شعبہ نفسیات کی پیشہ ورانہ خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں عوامی شعور میں اضافے اور مریض دوست طبی ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں ذہنی صحت کے شعبے کی مزید بہتری، معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کو بہترین علاج مہیا کرنے کے لیے کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔